ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹکا کے نااہل قرار دئے گئے اراکین اسمبلی کی اپیل پرسپریم کورٹ نے فوری سماعت سے کردیا انکار۔ دھوبی کے گدھے جیسی ہوگئی باغیوں کی حالت!

کرناٹکا کے نااہل قرار دئے گئے اراکین اسمبلی کی اپیل پرسپریم کورٹ نے فوری سماعت سے کردیا انکار۔ دھوبی کے گدھے جیسی ہوگئی باغیوں کی حالت!

Tue, 27 Aug 2019 17:57:17    S.O. News Service

نئی دہلی 27/اگست (ایس اونیوز) کانگریس او رجنتادل سے بغاوت کرکے مخلوط ریاستی حکومت گرانے کا سبب بننے کے بعد سابق اسپیکر رمیش کمار کی طرف سے نااہل قرار دئے گئے اراکین اسمبلی کو سپریم کورٹ نے ان کی اپیل پر فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے دوسری با ر بڑا جھٹکا دیا ہے۔

 جسٹس این وی رامنّا اور اجئے رستوگی کی ڈیویزن بینچ نے نااہل قرار دئے گئے 17اراکین اسمبلی کی اپیل پر نہ صرف فوری سماعت سے، بلکہ شنوائی کے لئے کوئی تاریخ طے کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔اس سے پہلے 12اگست کو بھی مدعیان کے وکیل مُکُل روہتگی نے عدالت سے اس معاملے کو فوری سماعت کے لئے لینے کی درخواست کی تھی، جس کو نامنظور کرتے ہوئے جسٹس ارون مشرا نے کہا تھاکہ اس اپیل کو فوری سماعت کے لئے قبول کرنے کے تعلق سے سپریم کے رجسٹرار کی طرف سے معائنے کے بعد طے کیا جائے گا۔اب سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد نااہل قرار دئے گئے ان اراکین کی امیدوں پر پانی پھر گیاہے جو بی جے پی میں شامل ہوکر وزارتی قلمدان پانے کے خواب دیکھنے میں مشغول تھے۔

 خیال رہے کہ تین آزاد امیدواروں سمیت جنتا دل اور کانگریس سے تعلق رکھنے جملہ 17اراکین کی بغاوت سے مخلوط حکومت گر گئی تھی اور ایڈی یورپا کی قیادت میں بی جے پی نے اقتدار سنبھالا تھا۔ ادھر کابینہ کی توسیع اور وزارتی قلمدانوں کی تقسیم میں بھی ایڈی یورپا کو مشکل پیش آرہی ہے، کیونکہ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بغاوت کرکے مخلوط حکومت گرانے کے انعام کے طور پر باغی اراکین نے کچھ اہم ترین وزارتی قلمدانوں پر اپنا دعویٰ جتایا ہے، اور ایڈی یورپا کے لئے درپردہ کیے گئے وعدے کو پورا کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

 سپریم کورٹ میں پرتاپ گوڈا پاٹل، بی سی پاٹل، اے ایس ہیبار،ایس ٹی سوم شیکھر،بی اے بسواراجا اور منی رتنا نے ایک مشترکہ اپیل دائر کی ہے، جس میں یہ موقف اختیار کیاگیا ہے کہ 28جولائی کو اسپیکر نے جو احکامات جاری کیے تھے وہ ”پوری طرح طور پر غیر قانونی، من مانے اوربددیانتی پر مشتمل ہیں۔“ کیونکہ اسپیکر نے ان کے استعفیٰ ناموں کو رضاکارانہ اور اصلی نہ مانتے ہوئے یکطرفہ طور پر مسترد کردیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے 6جولائی کو استعفیٰ دیا تھا لیکن اسپیکر کے آر رمیش کمار نے کانگریس پارٹی کی طرف سے10جولائی کو پوری طرح غلط سوچ کے ساتھ دی گئی درخواست پر عمل کرتے ہوئے انہیں نااہل قرارد یا ہے۔

جے ڈی ایس کے تین اراکین اسمبلی اے ایچ وشواناتھ، کے گوپالیّا اور کے سی نارائن گوڈا نے الگ سے اپیل داخل کی ہے جس میں اسپیکر کی طرف سے نااہل قرار دینے کے فیصلے کے درست ہونے کو چیلنج کیا گیا ہے۔اسی طرح دیگر نااہل قرارپانے والے اراکین اسمبلی روشن بیگ، آنند سنگھ، ایم ٹی بی ناگراج، ڈاکٹر سدھاکر، شریمنتھ بی پاٹل اور آر شنکر نے بھی اسپیکر کے طرف سے دئے گئے احکام کو کالعدم قرار دینے کی درخواست داخل کی ہے۔کانگریس کے دو باغی اراکین رمیش جارکیہولی اور مہیش کمٹہلّی نے سب سے پہلے اسپیکر کے رویے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

اب صورت حال یہ بن گئی ہے کہ جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ ان باغیوں کے حق میں نہیں آتا تب تک بی جے پی ان باغیوں کو اپنی حکومت میں شامل کر نہیں سکتی۔ دوسری طرف اسپیکر کے فیصلے پر اگر سپریم کورٹ اسٹے نہیں دیتا تو پھر الیکشن کمیشن ان خالی نشستوں پر کسی بھی وقت ضمنی انتخابات منعقد کرسکتا ہے اور اس صورت میں اسپیکر کے فیصلے کے مطابق نااہل قرار دئے گئے اراکین اسمبلی قانونی طور پر تازہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ بالفرض اگر انتخابات میں باغی اراکین اپنی جگہ پر اپنے کسی قریبی رشتے دار کو میدان میں اتارتے ہیں تب بھی ان کے لئے مشکل یہ ہوگی کہ جن پارٹیوں کو انہوں نے دھوکہ دے کر بی جے پی کو اقتدار میں آنے کے لئے مدد کی ہے، ان پارٹی کے کارکنان اور مقامی لیڈران بڑی حد تک ان سے برگشتہ ہوگئے ہیں اس لئے ان کے لئے ووٹ حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے کہ بی جے پی کے مقامی لیڈران اور کارکنان بھی کھلے دل سے ان کاتعاون  کریں گے۔ اس لئے فی الحال باغی اراکین اسمبلی کی حالت دھوبی کے گدھے جیسی ہوگئی ہے، جو نہ گھر کا رہا ہے اور نہ ہی گھاٹ کا۔


Share: